بدھ[1]

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - عقل، بدھی۔ "ایسا کہا ہے کہ بدھ بنا بد یا کسی کام کی نہیں"۔      ( ١٨٠٤ء، بیتال پچیسی، ٥٨ ) ٢ - علم، معرفت، گیان "اس کا بھی خیال رکھو کہ بدھ اور جوگ میں یہ لڑکا جنگل کے بڑے بڑے رشیوں سے بڑھ کر نکلا ہے"۔      ( ١٩٠١ء، زلفی، ٥١ ) ٣ - ہوش۔ "نہ تن من کی اسے سدھ رہی نہ جی جان کی اسے بدھ"۔      ( ١٨٠٢ء، نثر بے نظیر، ٣٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے اردو میں داخل ہوا۔ "دکھنی" میں شبد ساگر کے حوالے سے پہلی دفعہ اردو میں ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عقل، بدھی۔ "ایسا کہا ہے کہ بدھ بنا بد یا کسی کام کی نہیں"۔      ( ١٨٠٤ء، بیتال پچیسی، ٥٨ ) ٢ - علم، معرفت، گیان "اس کا بھی خیال رکھو کہ بدھ اور جوگ میں یہ لڑکا جنگل کے بڑے بڑے رشیوں سے بڑھ کر نکلا ہے"۔      ( ١٩٠١ء، زلفی، ٥١ ) ٣ - ہوش۔ "نہ تن من کی اسے سدھ رہی نہ جی جان کی اسے بدھ"۔      ( ١٨٠٢ء، نثر بے نظیر، ٣٣ )

جنس: مؤنث